ابنا: ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کی لہرآئی ہوئی ہے ۔آئے روز ملک کے مختلف حصوں میں دہشتگردی کا کوئي نہ کوئي واقعہ رونما ہوتا رہتا ہے جس میں بالخصوص مسلمانوں کے ایک مخصوص فرقے کونشانہ بنایاجاتا ہے جس کا حتمی نتیجہ مسلم امۃ کے درمیان افتراق وانتشار پیدا کرکے سامراجی مقاصد کو پورا کرنا ہے۔ ابھی لوگ پیشاور کےواقعے کو بھول بھی نہ پائے تھے کہ کوئٹہ میں ایک بار پھرمظلوم مسلمانوں پرنماز کی حالت میں خودکش حملہ کیاگیا۔
اب تک کی اطلاعات کےمطابق کم سےکم تینتیس افراد شہید اورسترسےزائد زخمی ہوئے ۔ یہ واقعہ اتنا دردناک تھا کہ اس کےخلاف اتوار کےدن سے ہی احتجاج اورمظاہروں کاسلسلہ شروع ہوگیا جوآج بھی جاری ہے کراچی ، لاہور ، راولپنڈی ، پیشاور، اسکردو، اسلام آباد ، میں اس واقعہ پر کل زبردست مظاہرے ہوئے اورآج بھی پاکستان کےمختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہور ہے ہيں جبکہ کوئٹہ میں مظاہروں کےساتھ ہی شہداء کے ایصال ثواب کےلئے قرآن خوانی اور مجالس ترحیم کا اہتمام کیا گیا ہے۔ معمول کےمطابق مختلف سیاسی ومذہبی رہنماؤں کی جانب سے واقعے کی مذمت کی جارہی ہے جس کا سلسلہ چند دنوں تک جاری رہے گا۔
ہزاروہ ڈیموکریٹیک پارٹی ، مجلس وحدت مسلمین ، اورشیعہ علماء کونسل نے اس واقعے کے خلاف احتجاج کیا ہے اور اس کی مذمت کی ہے ۔ بلوچستان شیعہ کانفرنس کے رہنماوں نے اس واقعے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے درجنوں چوکیوں کےباوجود حملہ آور کس طرح امام بارگاہ تک پہنچ گیا ہزارہ ٹاوٴن کے محلہ علی آباد کے بلخی چوک پر واقع امام بارگاہ ابو طالب میں نماز مغربین کے اختتام پر خودکش حملہ آور نے روکاوٹیں عبور کرکے آگے بڑھنے کی کوشش کی اورجب اسے روکا گیا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، عینی شاہدین کے مطابق اس کے ہاتھ میں دستی بم بھی تھے۔
پاکستان میں جب بھی دہشتگردانہ واقعات ہوتے ہيں،مختلف سیاسی ومذہبی حلقوں کی جانب سے اس کی مذمت میں بیانات کاسلسلہ شروع ہوجاتا ہے ، احتجاجی مظاہرے ہوتے ہيں اور پھرلوگ معمولات زندگی میں مصروف ہوجاتے ہيں۔لیکن قابل غور نکتہ یہ ہے کہ پاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیاں رکنے کا نام کیوں نہيں لے رہی ہیں؟
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ڈرون حملوں کانتیجہ ہے لیکن اگریہ امریکہ کےڈرون حملوں کا نتیجہ ہے توکوئی حملہ امریکی قونصلیٹ پرکیوں نہيں ہوتا؟ خودکش حملے امریکی فوجی مراکز پرکیوں نہيں ہوتے؟ یہ حملے امریکہ کا ساتھ دینے والے ملاؤں پرکیوں نہيں ہوتے؟اور ان ملکوں یان ان کےمفادات پرکیوں نہیں ہوتے جو اس کےباقاعدہ اتحادی اورغلام بنے ہوئے ہيں ۔ان لوگوں پرکیوں نہيں ہوتے جو سال میں کئی بار امریکہ کےدورے کرتے ہيں اور امریکی حکام سےڈیل کرتے ہیں؟ جبکہ دہشتگردی ہرشکل میں قابل مذمت ہے۔
ممکن ہے کسی کےذہن میں یہ خیال ہو کہ یہ حملہ اسلام کےٹھیکیداروں کی جانب سے اسلام پسندی کےتناظرمیں انجام دیئےجاتے ہيں تو پھرسوال یہ ہے کہ کوئي حملہ شراب خانوں اورفحاشی کےاڈوں پرکیوں نہيں ہوتا ؟ آذان ونماز کےاوقات میں ناچ گانے میں مصروف بنگلوں میں کیوں نہيں ہوتا؟ بےحیائی اورفحاشی کےعلمبردار ٹی وی چینلوں پرکیوں نہيں ہوتا؟ جب کہ اسلام نے اس طرح کی برائیوں سے نمٹنےکےلئے بھی ابتدائی مرحلےمیں امر باالمعروف و نہی عن المنکرسے کام لینے پرتاکید کی ہے اورقانون کےدائرے میں رہ کر ہرطرح کی برائیوں کوروکنے کاحکم دیا ہے۔
ہرمسلمان یہ سوال کررہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردانہ حملے، امن پسند پاکستانیوں پرہی کیوں ہوتے ہیں؟ عام طور سے مسجد اور امام بارگاہوں پرہی کیوں ہوتےہيں؟ وہ بھی نماز کی حالت میں !
ان تمام سوالوں کا صرف ایک جواب ہے اور وہ یہ کہ یہ حملے پاکستان دشمنی میں ہوتے ہيں۔ اسلام دشمنی میں ہوتے ہيں۔امریکی ایجنٹوں کےہاتھوں ہوتے ہيں اسی لئے توکبھی امریکی مراکز پرکوئي حملہ نہيں ہوتا۔اب حملہ کرنےوالوں کی حقیقت وماہیت کااندازہ آپ خود لگالیں ۔ صرف اتنا یاد رہے کہ دوسری تمام دہشتگردانہ کاروائیوں کی مانند اس حملے کی ذمہ داری بھی لشکرجھنگوی اور طالبان نے قبول کی ہے اور یہ سب پرعیاں ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ سے ان کاکیا رشتہ ہے؟
.....
/169